چنتامنی:21 /دسمبر(محمد اسلم /ایس او نیوز )بچپن میں بچہ یا بچی کو جو بھی سکھایا جاتا ہے وہ تا عمر اسے یاد رکھتے ہیں اور زندگی کسی نہ کسی پہلومیں انہیں وہ بات کام آتی ہے اگر ذہن نشین کرلی جائے تو اس عادت کو برقرار رکھ لیتے ہیں ان خیالات کااظہار رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کیا ۔آج تعلقہ کے ہیرا کٹگین ہلی ،بورمکلہلی ،آنور ،میلنڈ ہلی،مرغ ملہ،دوڈ گنجور،کڈدواڑی،سرکاری اسکولوں کے طلباء طالبات میں سائیکلیں اور یونیفارم تقسیم کرنے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تین تا آٹھ سال کی عمرتک عمر کا یہ وہ دور ہوتا ہے جسے بچوں کی معصومیت پر محمول کیا جاتا ہے لیکن اس بات ذہن نشین کرنے کی ہے کہ وہ یہ کہ اس عمر میں ہی بچے کی ذہنی سطح کسی بھی تربیت کیلئے تیار کیا جاسکتی ہے اگر آپ کی بچی یا بچہ عمر کے اس حصے میں ہیں تو ابھی سے ان کی تربیت کا آغاز کردیں ۔کرشناریڈی نے اور کہا کہ تعلیمی و معاشرتی بیداری وقت کا اہم تقاضہ ہے معاشرہ میں بچوں کی بہتر ین تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے سب سے زیادہ ذمے دار ی والدین پر ہوتی ہے بچے کا باپ ایک حصے کی ترجمانی کرتا ہے تو دوسرے حصے کی ترجمانی ماں کرتی ہے دونوں ایک گاڑی کے دو پہئے ہیں خصوصی طور پر اولاد کی اصلاح اور تعلیم میں ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ماں کے تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جوصحیح تربیت اور ایثار کے جذبے سے اپنی اولاد کو منشائے خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے ،خیال رہے کہ جب رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی سائیکل تقسیم کرنے کاگیتی سرکاری اسکول پہنچے تو اُس اسکول کے طلباء دوپہر کا گرم کھانا کھائے بغیر بھوکے تھیں رُکن اسمبلی جیسے ہی وہاں پہنچے تو تمام طلباء رُکن اسمبلی کا گھیراؤ کرلیا اور کہا کہ اس اسکول میں جو دوپہر کا کھانا دیا جارہا ہے وہ ٹھیک نہیں رہتا گھٹیا ترکاری ڈال کر سالن دیا جاتا ہے جو کھانے کے لائق تک نہیں رہتااس سے برہم رُکن اسمبلی نے اُس اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ اگر کل سے ٹھیک طرح طلبہ کو کھانا اور سالن نہیں دیا گیا تو سختی کے ساتھ قانونی کارروائی کرائی جائیگی ۔اس موقع پر رُکن اسمبلی کے ہمراہ وینکٹ ریڈی ،رویندرہ گوڈا،لکشمی نارائن ریڈی ضلع پنچایت رُکن سندد،منجوناتھ مدثر نظر سمیت کئی احباب موجود رہے۔